فقط اور نہیں کچھ
Poet: Ijaz Maqbool Aajiz By: Ijaz Maqbool Aajiz, Lahoreایک آوارہ جان ہے فقط، اور نہیں کچھ
دل میں دھبے ارمان ہیں، فقط اور نہیں کچھ؟؟؟
ہم حسرتوں کی بات سرِ عام نہیں کرتے
لب پہ تیرا نام ہے، فقط اور نہیں کچھ
تم سے کچھ کہنا تھا، کچھ کہہ نہ سکے ہم
یہی میرا کام ہے، فقط اور نہیں کچھ
زاویے نگاہوں کے بدل جاتے ہیں، اپنوں کی
تیرا بھی کوئی دام ہے، فقط اور نہیں کچھ
سلسلے بڑھائے نہیں تھے میں نے تجھ سے
تو تو میری جان ہے، فقط اور نہیں کچھ
یوں عاشقی نہیں کی جاتی ہر کسی سے جاناں
تیرا ایک مقام ہے، فقط اور نہیں کچھ
ہزار بار نہیں، ہر بار یہی جتلایا ہے کہ
تو ہی میرا مان ہے، فقط اور نہیں کچھ
اب کہ پھر لوٹ آو نہ آخری بار میرے پاس
ابھی تو ڈھلی شام ہے، فقط اور نہیں کچھ
کیا کہتے ہو؟ کچھ ارادے ہیں نبھا کرنے کے بھی؟
زندگی رہی ناتمام ہے، فقط اور نہیں کچھ
ایک آوارہ جان ہے فقط، اور نہیں کچھ
دل میں دھبے ارمان ہیں، فقط اور نہیں کچھ
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






