فلک پہ سات رنگوں کی دھنک بے چین کرتی ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKفلک پہ سات رنگوں کی دھنک بے چین کرتی ہے
کویٔ بے نام سی مجھ کو کسک بے چین کرتی ہے
کسی کی ریشمی جب چوڑیاں چھن چھن چھنکتی ہیں
تری یادوں کی پائل کی چھنک بے چین کرتی ہے
بنا میری اجازت کے مرے دل کے دریچوں میں
جب آۓ یاد تیری بے دھڑک،بے چین کرتی ہے
اُتر آ تو زمیں پر بھی کبھی خوابوں کی نگری سے
مجھے تیری ادھوری سی جھلک بے چین کرتی ہے
نہ ہو تو پاس تو ان ہجر کے بے کیف لمحوں میں
مری بانہوں میں کنگن کی کھنک بے چین کرتی ہے
سطح پر تیرتا ہے عکس جب جب ڈھلتے سورج کا
مجھے دریا کے پانی کی چمک بے چین کرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






