فلک پہ جتنے چمکتے ہوۓ ستارے ہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKفلک پہ جتنے چمکتے ہوۓ ستارے ہیں
وہ تیری میری محبت کے استعارے ہیں
ہمہی کو کھلتی تھی اپنی ہی خود فرا موشی
تمہاری یاد میں ایسے بھی دِن گذارے ہیں
اُلجھ گیۓ کبھی حالات کے تقاضوں سے
غمِ حیات کے گیسو کبھی سنوارے ہیں
اندھیری رات میں رستہ ہمیں دکھایںٔ گے
یہ اشک اشک نہیں، آسماں کے تارے ہیں
تمہارا مجھ سے سرِ راہ یوں ہی مِل جانا
سمجھ بھی جاؤ کہ قُدرت کے یہ اِشارے ہیں
چلیں گے ساتھ مگر مِل نہ پایںٔ گے عذراؔ
کہ ہم اور آپ تو دریا کے دو کنارے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







