فکر جاناں کا تسلسل
Poet: khawaja Tahir By: khawaja Tahir, jhangفکر جاناں کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا
لاکھ ستم ڈھائے دنیا
بار بار آزمائے دنیا
دوریاں فاصلے بڑھائے دنیا
پھر بھی
فکر جاناں کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا
میری آہوں میں تم ہو میرے سوچ میں تم ہو
میرا فکر میرا ذکر میری ابتدا میری انتہا
میرا آغاز میرا انجام جب تم ہو تو پھر اے
فکر جاناں تیرا تسلسل کیسے ٹوٹے گا
کیا ہوا
جو آجکل
شہر خموشاں کے باسیوں کی طرح
گزراوقات ہے اپنی جذبات پر پا بندی ہے شعور
اور سوچ میں چھید ہو چکے ہیں
ان تمام چیزوں کے باوجود
فکر جاناں کا تسلسل نہیں ٹوٹے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






