فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سُخن کا پہلو
Poet: Aziz Bilgami By: Aziz Bilgami,فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سُخن کا پہلو
بس اِسی واسطے تشنہ رہا فن کا پہلو
لوٹ جاتی ہے، بہار آ کے درِ گلشن تک
اب خزاں کے لیے کھلتا ہے چمن کا پہلو
انقلابات کی تقدیر سنور جائے گی
جاں گزیں سوچ میں ہو دارورسن کا پہلو
دِل کو چھوتی نہیں اب کوئی غزل ، شعر کوئی
چھا گیا حسنِ ترنم پہ بھجن کا پہلو
میں تو بس، دولتِ اخلاص کا شیدائی ہوں
اس لئے پیشِ نظر ہی نہیں دھن کا پہلو
ایک حسینہ ہے ، تشدّد جسے کہتے ہیں عزیز
گرم رکھتی ہے بہت اہلِ وطن کا پہلو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







