فیصلہ کر لیا دل نے تو پچھتاوا کیسا
Poet: Ibn.E.Raza By: Ibn.E.Raza, Islamabadفیصلہ کر لیا دل نے تو پچھتاوا کیسا
اہل ِاُلفت سے وفاؤں کا تقاضا کیسا
اے مجھے پتھر کا صنم کہنے والے
پتھروں سے بتا تجھے یہ شکوہ کیسا
منزل طلب نہ کر اے راہ رو ِ محبت
نہ خبر تھی تجھ کو ہے یہ سودا کیسا
یہ سوز تو دل کو محبوب ہوا کرتا ہے
پروانے سے پوچھو جلنے کا مزا کیسا
ارماں ہی رہا میرا کبھی آئے رضا وہ
پوچھے کبھی مجھ سے حال میرا کیسا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






