قاتل نگاہوں سے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesجو رہتے ہیں سدا دل میں اُنہیں ڈھونڈا نہیں کرتے
جو رچ رگ و پے میں انہیں سوچا نہیں کرتے
بہاروں کے گھنے سائے میں تلخی بھی چھبن بھی ہے
غموں کی دھوپ کا تم سے مگر شکوہ نہیں کرتے
نہیں آتے کبھی بھی لوٹ کر گزرے ہوئے موسم
برستے بادلوں کی میں آس ترسا نہیں کرتے
تجسس اور بڑھتا ہے مچل جاتے ہیں سن کر ہم
اچانک پیار کی باتوں کا رخ موڑا نہیں کرتے
تیری نظرِ عنایت سے ہوئے جاتے ہیں جو گھائل
انہیں قاتل نگاہوں سے کبھی دیکھا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







