قدم قدم تیرے ساتھ چلا
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAقدم قدم تیرے ساتھ چلا
ہر قدم تجھے ساتھ چلایا
ہاتھ تیرا تب تب تھاما
جب جب تو نے ہاتھ بڑھایا
تیری راہوں میں کلیاں بچھائیں
جب جب تو نے قدم بڑھایا
جب جب تیرے قدم ڈگمگائے
تب تب تجھے ہاتھوں پہ اٹھایا
جب جب تو نے نظر ملائی
تب تب تجھے پلکوں پہ بٹھایا
جب جب تیرے آنسو نکلے
تب تب تجھے سینے سے لگایا
جب جب تو نے پیار کیا
تب تب تجھے دل میں چھپایا
جب جب تو نے اٹھکیلیاں کیں
تب تب تجھے سینے پہ کھلایا
جب جب تیری حسرت جاگی
تب تب تجھے بانہوں میں سلایا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






