قدم قدم پہ تری خوشی کو بھول گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاترے بغیر یہ زندگی کو بھول گئے
قدم قدم پہ تری خوشی کو بھول گئے
بھلا سکوں گا نہ غم مے کدے میں بھی جا کر
تو سوچتا ہوں کہ پھر بے خودی کو بھول گئے
یہ پھول ڈالی سے ٹوٹا تھا آج وقت سحر
ہوئی ہے شام تو اب تازگی کو بھول گئے
ہوئے ہیں عشق میں برباد کتنے ہی عاشق
یہ جانتے بھی ہوئی عاشقی کو بھول گئے
وہ بدگماں کہیں نالاں نہ مجھ سے ہو جائے
ہے اس سے آج نئی دل لگی کو بھول گئے
اندھیرے جن کے ہیں ذہنوں میں خاک دیکھیں گے
کریں تو ان کے لیے روشنی کو بھول گئے
رہے جو تیرا عدو تیرا پیار پا کر بھی
تو ایسے شخص سے ہو دوستی کو بھول گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






