قرارِ قلب میسر نہ ہو تو کیا کیجئے
Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabadقرارِ قلب مُیسر نہ ہو تو کیا کیجئے
تمناؤں کا محور نہ ہو تو کیا کیجئے
بھلا بہت ہے شوق سر بلندیوں کا مگر
کسی کے پاس اگر پر نہ ہوں تو کیا کیجئے
سُنا ہے طرزِ عبادت سے ہے سکونِ قلب
قابلِ سجدہ کوئی سَر نہ ہو تو کیا کیجئے
کون محسوس کرے اتنا مضطرب ہونا
چوھدویں رات ہو قمر نہ ہو تو کیا کیجئے
ہمارا دن ہے آج ہم سے آج ہی ملئیے
آپ آئیں جو کل گوہر نہ ہو تو کیا کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






