قربت کے خریدار پہ بھی ٹیکس لگے گا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiقربت کے خریدار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب رونقِ بازار پہ بھی ٹیکس لگے گا
درویش کے دربار پہ بھی ٹیکس لگے گا
استاد کی گفتار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب عشق کے بیمار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب ملنے کے اصرار پہ بھی ٹیکس لگے گا
مالوف کے دیدار پہ بھی ٹیکس لگے گا
انسان کے کردار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب سوچ کے محبوب سے ملنے ذرا جانا
کہتے ہیں کہ انکار پہ بھی ٹیکس لگے گا
ویران ہو جائے گا گلشن بھی ہمارا
ہر پھول چمن خار پہ بھی ٹیکس لگے گا
بھر جائے گا ممکن ہے حکومت کا خزانہ
حسنِ گلِ گلزار پہ بھی ٹیکس لگے گا
محبوب کو جی بھر کے ذرا دیکھ لو اب تم
اب تل لب و رخسار پہ بھی ٹیکس لگے گا
سگریٹ پہ پہلے ہی حکومت نے لگایا
امکان ہے نسوار پہ بھی ٹیکس لگے گا
شاعر جو بنے پھرتے ہیں مشہور سخنور
اب غزلوں کی بھر مار پہ بھی ٹیکس لگے گا
اظہارِ محبت ذرا اب سوچ کے کرنا
اب پیار کے اظہار پہ بھی ٹیکس لگے گا
لکھتے ہیں سخنور بنا کر زلف کی توقیر
اب زلفوں کی ہر تار پہ بھی ٹیکس لگے گا
شہزاد حکومت کے مخالف لکھو گے کچھ
پھر دیکھنا اشعار پہ بھی ٹیکس لگے گا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






