قرض۔۔۔
Poet: Tariq Iqbal Haavi By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreآئے ہو مدتوں بعد، کیا جلدی جانے کی؟
دو گھڑیاں رُک جاﺅ، چھوڑو بات زمانے کی
بیٹھو کہ ہجر کا تمھیں، ہر پل گنوانا ہے
بیٹھو کہ محبت کا مجھے، کچھ قرض چُکانا ہے
تم کو دل ہی دل میں ہم، سب کچھ جان چکے تھے
شعر، غزل کے لفظ میرے، بس تم پہ آن رُکے تھے
تھا کیا معلوم اس دل کو بننا، غم کا ٹھکانہ ہے
بیٹھو کہ محبت کا مجھے، کچھ قرض چُکانا ہے
انکار بھلا کر دیتے، جھوٹا اقرار نہ کرتے
ہم وقتی صدمہ لیتے، پر یوں آہیں نہ بھرتے
تیری خطاﺅں سے ملا غم، تیرے نام لگانا ہے
بیٹھو کہ محبت کا مجھے، کچھ قرض چُکانا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






