قسم لے لو تمہارے بعد
Poet: Zee Ali By: Zeeshan, jhelumقسم لے لو تمہارے بعد کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کو ہم نے چاہا ہو، کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو، کسی کی جستجو کی ہو
کسی کی راہ دیکھی ہو، کسی کا قرب مانگا ہو
کسی کو ساتھ رکھا ہو، کسی سے آس رکھی ہو
کوئی امید باندھی ہو، کوئی دل میں اتارا ہو
کوئی تم سے پیارا ہو، کوئی دل میں بسایا ہو
کوئی اپنا بنایا ہو، کوئی روٹھا ہو تو ہم نے
اسے رو رو منایا ہو، دسمبر کی حسیں رت میں
کسی کا ہجر جھیلاہ ہو، کسی کی یاد کا موسم
میرے آنگن میں کھیلا ہو، کسی سے بات کرنے کو
کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بے وفائی پر
کبھی یہ نین برسے ہوں، کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر
تیرے دکھ میں نہ روئے ہوں، زی قسم لے لو
تمہارے بعد ہم ایک پل بھی سوئے ہوں، قسم لے لو
کبھی جگنو، کبھی تارے، کبھی مہتاب دیکھا ہو
قسم لے لو تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
قسم لے لو، تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







