قسم لے لو تمہارے بعد
Poet: Zee Ali By: Zeeshan, jhelumقسم لے لو تمہارے بعد کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کو ہم نے چاہا ہو، کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو، کسی کی جستجو کی ہو
کسی کی راہ دیکھی ہو، کسی کا قرب مانگا ہو
کسی کو ساتھ رکھا ہو، کسی سے آس رکھی ہو
کوئی امید باندھی ہو، کوئی دل میں اتارا ہو
کوئی تم سے پیارا ہو، کوئی دل میں بسایا ہو
کوئی اپنا بنایا ہو، کوئی روٹھا ہو تو ہم نے
اسے رو رو منایا ہو، دسمبر کی حسیں رت میں
کسی کا ہجر جھیلاہ ہو، کسی کی یاد کا موسم
میرے آنگن میں کھیلا ہو، کسی سے بات کرنے کو
کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں کسی کی بے وفائی پر
کبھی یہ نین برسے ہوں، کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر
تیرے دکھ میں نہ روئے ہوں، زی قسم لے لو
تمہارے بعد ہم ایک پل بھی سوئے ہوں، قسم لے لو
کبھی جگنو، کبھی تارے، کبھی مہتاب دیکھا ہو
قسم لے لو تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
قسم لے لو، تمہارے بعد، کسی کا خواب دیکھا ہو
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں







