قصور
Poet: Syed Muhammad Ziauddin By: Syed Muhammad Ziauddin, Karachiاے غمِ دل تو ہی بتلادے میراتھا کیا قصور
نہ مزا جینے میں باقی ہے نہ مرجانے میں ہے
ایک دھوکہ ہے تیری محفل میں اے ساقی میرے
کیا خبر تھی جامِ عشقِ یار پیمانے میں ہے
اب نہیں ہے چینِ دل اور اب نہیں باقی سکوں
نہ ہی مخفی سے قرارِ جاں نہ بتلانے میں ہے
یھ قفس ہے میں مفقس ہوں تیرے اجمال کا
کیا رہائی میں مزا جو قید ہو جانے میں ہے
تیرگئ شب میں آبِ چشم جو بہتا رہا
پاک تر ہے اس سے، پانی جو وضو خانے میں ہے
عشق کے دریا کی کشتی کو کنارہ ہے عبث
جو مزا غرقاب میں ہے وہ نہ تیرانے میں ہے
یوں ہی روز و شب گزرتی جا رہی ہے زندگی
دن غمِ دوراں میں ہے اور رات مے خانے میں ہے
اس کے دل میں گھر نہیں تیرا کہ تو ہے سنگ راہ
تیری تو قصدِ حیاتی ٹھوکریں کھانے میں ہے
ایک ضدی ہے میرا ہمزاد جو سنتا نہیں
لگ رہا ہے آبرو اب اسکے مرجانے میں ہے
ایک اسکے وصل کی ہے آرزو مجھ کو ضیاء
جسکی یادوں کی نمی ہر رات سرہانے میں ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






