قطعات زیب
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiپیرہن پر کیوں جمائی ہیں نظریں
دیکھو اگر دل تو وہ بھی شکستہ ہے
اک چھوٹی سی جونپڑی ہے یاّدوں کی
مگر بڑا ہی طویل اُس کا رَستہ ہے
یہ دُنیا اور تیری نہ بچھڑنے کی ضد
خُود سُوچو کیا یہ بھی ہو سکتا ہے
زخم نادیدہ سے سینے میں سمائے ہوئے ہیں
جب سے ہمارے محلے میں وہ آئے ہوئے ہیں
شبستانوں سے بہتر جانا اب تو ویرانوں کو
ڈرون جب سے امریکہ نے بنائے ہوئے ہیں
عجب سکونت کی اختیار بنجاروں نے کہ پٹواری حیران ہیں
قبضہ ہے کراچی پر اور مہاجر کھلائے ہوئے ہیں
روٹھو تم بار بار مگر کدورت نہیں چاہیے
ہم حاضر ہیں ہزار بار منانے کے لیے
لے آؤ کئی سے مٹی کا دیاّ اور رسی کی بھات
کہ لہو جگر کافی ہے اب جلانے کے لیے
ہر رمضان میں نام تیرے کچھ لکھ نہیں پاؤں گا
گیارہ مہینے کیا گزرتی وہ سب لکھ نہیں پاؤں گا
سچ جانو اب عمر کے اُس حصے میں ہوں
تُو جانو میں تجھے جان جگر کہہ نہیں پاؤں گا
اب ماند پڑا ہے میرا شوق خدمت،تم خود ہی
سحری کو اُٹھ جانا میں اُٹھا نہیں پاؤں گا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






