قفس حیات
Poet: Sandal Sherzad By: Sandal Sherzad, Chakwalقفس میں مقید پرنده هوں
مجھے اڑنا هے دور افق کنارے
ابھرتی معدوم هوتی خواهشوں کے
سانس لیتے ساتوں آسماں په
پر پھیلاۓ غم و اندوه کے بادلوں کو
چیر کر هر کالی گھپ پرچھائی کو
مجھے اڑنا هے دور افق کنارے
کون جانے ان وسعتوں میں
کیا کیا راز دھرے هیں تسخیر کو
کون جانے کس سیپ میں هے موتی
شنکھ بجا کر معلوم کرنا هے
هر زنجیر کو توڑ کر وقت کی حالات کی
هر آندھی کا سینه شق کر کے
مجھے اڑنا هے دور افق کنارے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






