لب پہ مچل گیا تیرا نام
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGحَبس میں تپتی آئی شام
لب پہ مچل گیا تیرا نام
نہیں نگاہوں میں کوئی اور
جب سے ہے دل میں تیرا قیام
محبت کیا ہے اس کے سوا
ایک کَسک سی بے نام
یہی رنگینی ہے محبت کی
دل و جگر ہیں خون آشام
جگر چھلنی اور سینہ زخمی
کیا خوب محبت کا انجام
اس ایک نگاہ کا مقتل دیکھو
لاکھوں دلوں کا قتل عام
قرار زیست خمار زیست
اس کی آنکھوں کا اک جام
قیس، فرہاد، قیصر، منصور
ایک محبت سینکڑوں نام
کیا خوب ہے معجزہ زیست و عدم
اے عشق سلام اے عشق سلام
بس یہی ہے محبت کا انجام
درد مسلسل درد مدام
کر لے حاصل کچھ اعمال
ہو نہ جائے زیست کی شام
کیسے کرے نباہ اکیلا
ایک دل لاکھوں آلام
اپنا درد ہے دوست کا درد
پئے جا قیصر درد کے جام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








