لوٹ آؤ کہ شام ہوئی
Poet: Muhammad Zia Siddiqui By: Muhammad Zia Siddiqui, IslamAbadبچھا کے رستوں پہ اپنی آنکھیں
ہر ایک پل تیری دیکھوں راہیں
محبتوں کا چراغ لیکر بہت تڑپی بہت روئی
لوٹ آؤ کہ شام ہوئی
تمہاری یادوں کا کرب تھامے
گزر رہی ہیں اداس شامیں
بھلانا چاہا نہ بھول پائی ہر اک کوشش ناکام ہوئی
لوٹ آؤ کہ شام ہوئی
وہ قربتوں کا حسیں موسم
وہ بکھری زلفیں وہ آنکھیں پرنم
وہ پر تبسم حیات میری صنم تمہارے ہی نام ہوئی
لوٹ آؤ کہ شام ہوئی
جدائی کا غم نہ سہہ سکوں گی
یہ راز دل پھر نہ کہہ سکوں گی
بیمار سانسیں اٹک نہ جائیں خدارا بھیجو سلام کوئی
لوٹ آؤ کہ شام ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






