لوگ کہتے ہیں میں شاعر ہوں
Poet: Zahid M. Abbasi By: Zahid M. Abbasi, Manchester, UKلوگ کہتے ہیں میں شاعر ہوں
مگر ایسا نہیں
میں تو اک دیوانہ ہوں
ان کہا فسانہ ہوں
کسی جنگل میں پڑا لاوارث خزانہ ہوں
ہاں مگر کچھ دل کی باتیں
سب سے جو چھپاتا ہوں
زباں سے جو نہیں کہتا
کاغذوں پہ لکھتا ہوں
اور لکھتا جاتا ہوں
لفظ ملتے جاتے ہیں
شعر بنتے جاتے ہیں
میں شعر نہیں کہتا
شعر مجھ سے کہے جاتے ہیں
لوگ کہتے ہیں میں شاعر ہوں
مگر ایسا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






