لو چلی اب میں تیرا آنگن چھوڑ کر بابل
Poet: anam By: anam, karachiلو چلی اب میں تیرا آنگن چھوڑ کر بابل
بیٹھاؤ ڈولی پیار بھرے بول بول کر بابل
میرے سارے کھلونے بابل سنبھال رکھنا
جب یاد آئے میری میری گڑیا گلے سے لگا لینا
تیرا گھر چھوڑ کر اب پیا گھر رہنا ہے مجھے
پلا دو اب مجھے جدائی کا جام گھول کر بابل
ماتھے پر سجا کر جھومر دلہن میں بنی ہوں
پہن کر عروسی جوڑا پیا کیلئے میں سجی ہوں
خوشیوں کا اک جہاں ہے منتظر پر دل اداس ہے
جانے کب ملاقات ہودیکھ لواپنی گڑیا جی بھر کر بابل
ماں تیری لاڈو تیری محبت کے آنچل تلے پلی
ہو کر پرائی اب تیرا میں دامن چھوڑ چلی
میری بہنیں میرے بھائی میری سکھیاں اداس ہیں
میرے بعد میرے ان رشتوں کو رکھنا سنبھال کر بابل
ہو جاتا کبھی اندھیر ا تو میرا ڈر سے گھبرانا
یاد آئے گا ماں مجھے تیرا ڈور کر چلے آنا
چھپا کر اپنے آنچل میں مجھے پیار سے سمجھانا
یاد آئے گا میرے سر پر ہاتھ رکھ کرتیرا بہلانا بابل
لو چلی اب میں تیرا آنگن چھوڑ کر بابل
بیٹھاؤ ڈولی پیار بھرے بول بول کر بابل
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






