لڑائی خود سے بے دھڑک ہوتی ہے
Poet: Mine By: Mine, sialkotاوجھل ہوا جو تو تو بھولا ہوں
بھلا چاند میں چمک ہوتی ہے
تو بچھڑا سکون کا پل نہیں
پیڑ پہلو میں کڑک ہوتی ہے
اک تسلسل کی طلب ہوتی ہے
صبح سے رات تلک ہوتی ہے
درد کی کمی کے خیال سے بھی
آنکھ چھبتی ہے پلک روتی ہے
خواہش سکون کی اب نہیں مائن
لڑائی خود سے بے دھڑک ہوتی ہے
آزما لوں گا خود کو میں
تیری حاجت کب تلک ہوتی ہے
تیری الجھن سی وفاؤں سے
سانس چلتی ہے روح سوتی ہے
میری آنکھ میں ہے یہ چمک سی جو
تیری یاد کا یہ تو موتی ہے
تجھے محفل کی جو پرکھ نہیں
مجھے شور سے الجھن ہوتی ہے
کیسا شور ہے میری سانسوں میں
بھلا سانس ضروری ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






