لڑکیاں بھی ناں بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillخواب پلکوں پہ سجا لیتی ہیں چپکے چپکے
رنگ پھولوں سے چرا لیتی ہیں چپکے چپکے
آنے والے حسین وقت کی آسیں لے کر
دل پہ پہرے سے بٹھا لیتی ہیں چپکے چپکے
بیٹھے بیٹھے کبھی خود سے بھی الجھ جاتی ہیں
دیپ یادوں کے جلا لیتی ہیں چپکے چپکے
سارا دن چہرے پہ مسکان سجا رکھتی ہیں
شب گئے اشک بہا لیتی ہیں چپکے چپکے
جب کبھی نارسائی حد سے گزر جاتی ہے
خود کو آئینہ بنا لیتی ہیں چپکے چپکے
سہتی جاتی ہیں ان کہی کہانیوں سے دکھ
روح پہ برف گرا لیتی ہیں چپکے چپکے
کسی کے پیار کی جنت نظیر دنیا میں
اپنی ہستی کو مٹا لیتی ہیں چپکے چپکے
گماں کی دلنشیں وادی میں سفر کرتے ہوئے
کونپلیں دل میں کھلا لیتی ہیں چپکے چپکے
در خیال سے چن چن کے وفا کے موتی
اپنے دامن میں سجا لیتی ہیں چپکے چپکے
ڈائری میں کسی کے نام کی لکھ کر نظمیں
تتلیوں کو ہی سنا لیتی ہیں چپکے چپکے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






