لکھ لکھ کے کئی بار مٹایا ہے تیرا نام
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپلکوں کی چلمنوں میں چھپایا ہے تیرا نام
دھڑکن میں اسطرح سے بسایا ہے تیرا نام
بیٹھا ہوا ہوں آس میں یادوں کی ریت پر
لکھ لکھ کے کئی بار مٹایا ہے تیرا نام
رکتی ہی نہیں آرزو کی ضو فشانیاں
تاروں کے جھمگٹے سے چرایا ہے تیرا نام
ہر اک فنا کی راہ سے گزرا میں بے دھڑک
کچھ اسطرح سے روح میں سمایا ہے تیرا نام
میں جب کبھی نصیب کے ادراک کو نکلا
ہاتھوں کی لکیروں نے دکھایا ہے تیرا نام
یہ پھول ستارے گھٹا ساون ہوا جگنو
لفظوں کے کنایوں نے بتایا ہے تیرا نام
اے رشک ناز اب ذرا اٹھکیلیاں نہ کر
دے کر لہو کو تھپکی سلایا ہے تیرا نام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






