لگتا ہے مجھے ڈر حالاتوں سے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaلگتا ہے مجھے ڈر حالاتوں سے
زمانے سے رسموں سے ذاتوں سے
بجھے رہنے دو چراغ میرے گھرکے
میرا نہیں رشتہ کوئی شب براتوں سے
عاشقِ بدبخت پہ اِک احسان کر
مجھے زہر دے جا اپنے ہاتھوں سے
پوچھ ذرا ستاروں سے میرا حال
میں سویا نہیں ہوں کہی راتوں سے
جب کہتے ہو ، میں مجبور ہوں
ڈر لگتا ہے تری باتوں سے
یہ جو دل تڑپتا ہے سوتا نہیں
روگ لگا یہ اُن سے ملاقاتوں سے
نہالؔ کیا کرنا چاہتے ہو ثابت اب
بے وزن شعروں سے ، غزلاتوں سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






