لگ گئی پیار کو نظر تو نہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiلگ گئی پیار کو نظر تو نہیں
یا دعائیں ہی بےاثر تو نہیں
تُو حسیں ہے مگر غرور نہ کر
تُو بھی انسان ہے قمر تو نہیں
میں نے اک عمر شاعری کی ہے
مل گئ مجھ کو یوں فقر تو نہیں
روز پیروں میں جو مسلتے ہو
دل مرا تیری رہگزر تو نہیں
میں جو اک عمر سے ہی تنہا ہوں
یہ وفاؤں کا ہی ثمر تو نہیں
ہر قدم پر جو بھوک ملتی ہے
مفلسی میری ہمسفر تو نہیں
درد سہہ کر سکوں جو ملتا ہے
درد ہی میرا راہبر تو نہیں
جو بھی کہہ دے تو شاعری کر دوں
یہ عطا ہے جگر ، ہنر تو نہیں
اتنی شدت سے جو ہوئ دستک
آج پھر پگلی بام پر تو نہیں
اس کی قاصد خبر تو لاؤ کوئی
وہ گیا میرے بعد مر تو نہیں
مجھ کو باقرؔ نہ روک پینے سے
میکدہ ہے یہ تیرا گھر تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






