مائے دسمبر کی سرد ہوائیں پتہ دیتی ہیں
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaمائے دسمبر اور میری جان ہائے ذرا ذرا
ہو رہا ہے جی نقصان ہائے ذرا ذرا
ہے تو دسمبر شدید سرد بے تحاشہ یارو
مگر جل رہے ہیں ارمان ہائے ذرا ذرا
کُہر کے سنگ ٹپک رہی ہیں شبنمی یادیں
آنسو آنے کا ہے اُمکان ہائے ذرا ذرا
سوچ کے پھولوں پہ گِر رہی ہے برفِ ماضی
کانپ رہا ہے سارا گلستان ہائے ذرا ذرا
مائے دسمبر کی سرد ہوائیں پتہ دیتی ہیں
آئے گا آئے گا طوفان ہائے ذرا ذرا
نیند کیسے آئیگی مجھے سرد اندھیری راتوں میں
یادوں کا ہے پاس سامان ہائے ذرا ذرا
نہال جی کرینگے عبادت خدا کی ضرور مگر
ابھی ہے اُس پہ دھیان ہائے ذرا ذرا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






