ماشہ ماشہ خوشیاں۔۔۔
Poet: Kaashif Raazee By: Kaashif R. Chohdaree, Islamabadدل کا قرار لوٹنے والی وہ دو آنکھیں
دھڑکنیں ان کے لیے بےقرار کرنا اچھا لگا
ہم جو اپنے لیے بھی وقت نہیں رکھتے،آج
نہ جانے کیوں اسکا انتظار کرنا اچھا لگا
مجھ سے مانگ کر،مرا ہی دل مجھے اسکا
مرے دل سے مجھے بے اختیار کرنا اچھا لگا
احسان نہ ادھار رکھتا ہوں میں کسی کا مگر
چاے کا ایک کپ آج ادھار کرنا اچھا لگا
جی ہان، جی نہیں کہنے والی اس لڑکی کا
دیر سے آنے پہ مجھ سے تکرار کرنا اچھا لگا
اسکی زباں پہ لوٹ کر نہ آنے کی تکرار اور
آنکھوں کا نہ جانے پہ اصرار کرنا اچھا لگا
ڈھیروں غم کے بوجھ تلے دب کر کاشف
ماشہ ماشہ خوشیاں شمار کرنا اچھا لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






