ماننا ہوگا تجھے اِک روز تو یہ جانِ من
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKماننا ہوگا تجھے اِک روز تو یہ جانِ من
کھینچ لائی ہے تجھے دِل کی مرے سچی لگن
لاکھ ٹالے توُ مگر کوئی نہ کوئی بات ہے !
اور ہی کچھ کہہ رہی ہے تیرے لہجے کی تھکن
پیار ہوگا مجھ کو تم سے اور ہو سکتا ہے کیا ؟
توُ کِسی سے ہنس کے بولے مجھ کو ہوتی ہے جلن
سانپ کی طرح سے یہ پھنکارتی ٹھنڈی ہوا
ہڈیوں تک میں اتر جاتی ہے جیسے اک چبھن
بھول سکتی ہوں ترا گھنبیر لہجہ کس طرح ؟
آج تک بھولی نہ میں تیری وجاہت کی پھبن
میں نے سینچا تھا جسے اپنے لہو کی دھار سے
چھوڑ کر جانا پڑا اِک روز مجھ کو وہ چمن
گو زمانے کی ہر آسایش ہی میرے پاس ہے
یاد آتا ہے مجھے اب بھی خیابانِ وطن
اِک ذرا آرام پا کر پھر سے تازہ دم ہوا
روز دِن بھر کی مشقت سے تھکا ہارا بدن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








