مانگنا رب سے
Poet: Muhammad Bilal Bhatti By: Muhammad Bilal Bhatti, Lahoreیہ کون دیتا ھے دینے کو منہ چاھیے
سب سے اچھا ھے سچا ھمارا نبی
واہ کیا جودو کرم ھے شاہ بطحا تیرا
نھیں سنتا ھی نہیں مانگنے والا تیرا
یہ سرکار کا در ھے درشاھاں تو نھیں
جومانگ لیا مانگ لیا اور بھی کچھ مانگ
دے سکتے ہیں کیا کچھ کہ وہ کچھ دے نھیں سکتے
یہ بحث نہ کرہوش میں آ اور بھی کچھ مانگ
وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ کرم ھے ان کا محدود
ان لوگوں کی باتوں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
جھولی ہی میری تنگ تھی کیا مانگتا ان سے
وہ تو کہتے رہےمانگ ذرا اور بھی کچھ مانگ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






