مانگ لو ہاتھ میرا اپنا بنا لو مجھ کو
Poet: Sheikh Huma Ali By: Sheikh Huma Ali, Karachiہم نے دے دی ہے اشاروں میں اجازت تم کو
تم جو چاہو تو نگاہوں میں بسا لو ہم کو
تم کو حق اے میرے شوخ صنم
کھینچ لو ہاتھ اور سینے سے لگالو مجھ کو
چھین کر مجھ کو زمانے کی نگاہوں سے پرے
اپنے احساس کی دنیا میں بسا لو مجھ کو
گر ہے چاہت کی تمنا تمہیں اے جان وفا
مانگ لو ہاتھ میرا اپنا بنا لو مجھ کو
مر کے بھی ساتھ نبھاؤں گی یہ وعدا ہے میرا
صرف اک بار کبھی دل میں بلا لو مجھ کو
ہے جو چاہت تمہیں مجھ سے تو اے محبوب میرے
اپنی بانہوں میں بھرو مار ہی ڈالو مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






