ماں کے نام
Poet: ملکہ افروز روہیلہ By: ملکہ افروز روہیلہ , کراچیبس اک ہی نام زندگی بن کے
ہماری سانسوں میں جیتا ہے
وہ مسکرائے تو زندگی مسکراتی ہے
اس کا ایثار
اس کا پیار
کچھ بھی تو نہ تھے ہم
سات بہن بھائی
سات زندگیاں ، کمزور ، ناتواں ، معصوم
دھنک کے سات رنگ
گیت کے سات سر
یا
ہفتے کی مالا کے سات دانے
وہ ساعتیں ، وہ لمحے جب ماں نے ہمیں
ہمارے ہونے کا احساس دیا
اس نے جینے کا قرینہ دیا
وہ باپ بن کر بھی ماں ہی رہی
ممتا کی چھا وٰں میں ہمیں سمیٹتی رہی
بچپن ، لڑکپن ،جوانی ، عمر کی بڑھتی چھایا
ہر نئے دن نئے سال ماں کی محبت ضرورت و ممتا کی چھاوں کو
اور زیادہ پایا
اب یہ ہی دل کہتا ہے ہر صبح وشام
سر پر رہے تیرا سایہ سلامت ہر پل ہر گام
اے ، ماں اے ماں
ہم ہیں تیرا روپ
ہم ہیں تیری چھایا
ملکہ افروز روہیلہ
( 14 مئی 2006ء بروز اتوار مدر ڈے کے موقع پر ماں کی نذر )
( ہم بہن بھائیوں کی طرف سے ایک پیام )
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






