ماہ رحمت مبارک
Poet: معین فخر معین By: معین فخر معین , Karachi مقدس کیا مہینہ آ گیا ہے
طہا رت کا قر ینہ آگیا ہے
درخشاں ہوگئی بہشت زمیں پر
ہو ئی خلدے بریں مہماں زمیں پر
درے بہشت سبھی وا ہوگئے ہیں
کرم کی وہ اک صدا ہو گئے ہیں
عطاؤں کا ہوا جا ری سفر ہے
کرم رب کا حسیں شام و سحر ہے
روز ایمان فروز لزتیں ہیں
عبادت میں بھی پنہاں راحتیں ہیں
درخشاں ہے یہ وہ ماہ مقدس
کہ تقوی کا بھی دیتا ہے جو درس
نگہ صائم میں ہے ہر پل مد ینہ
وہ ما نگے کیوں بھلا مو تی و نگینہ
ادا صا ئم کی بھاتی ہے خدا کو
قبول وہ کر تا ہے اس کی دعا کو
حسیں شاداں مبا رک یہ گھڑی ہو
رحمتوں کی معین سب پر جھڑی ہو
===========================================
نعت شر یف
تن دھن ہو جان ہو رسول عر بی
تم پہ قر بان ہو رسو ل عربی
آپ دین حق بہا رے دو جہاں ہو
حرف قرآن ہو رسول عربی
خا لی دامن اب نہ رہے گا میرا
میرا ایمان ہو رسول عربی
روز محشر نجات کا امت کی
تم ہی سامان ہو رسول عربی
دو عالم میں ہیں رحمتیں سر کار کی
دو جگ کی جان ہو رسول عربی
در سے خالی معین نہ جائے گا اب
آپ میرا ما ن ہو رسول عربی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






