مت پوچھو
Poet: By: maqsood hasni, kasurبن ترے کیسے جیتا ہوں
مت پوچھو
اڈیکوں کے ظالم موسم میں
سانسوں کا آنا جانا کیسے ہوتا ہے
مت پوچھو
ساون رت میں
آنکھوں کی برکھا کیسے ہوتی ہے
مت پوچھو
چاہت کی مدوا پر
خود غرضی کا لیبل جب بھی لگتا ہے
راتوں کی نیندیں ڈر جاتی ہیں
آشکوں کے تارے
سارے کے سارے
گنتی میں کم پڑ جاتے ہیں
آس کی کومل کرنیں
یاس کی اگنی میں
جب جلتی ہیں
تب روح کی ارتھی اٹھتی ہے
یادوں کی نم آنکھوں کی بیپتا
مت پوچھو
چھوڑ کر جانے کے موسم پر
بچھڑے موسم کا اک پل بھاری ہوتا ہے
پھر کہتا ہوں
کالے موسم تم کو کھا جاءیں گے
تری ہستی کی کوئ کرچی
میں کیسے دیکھ سکوں گا
چہرے گھاءل
مرے دل کے کتنے ٹکڑے کرتے ہیں
مت پوچھو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






