مجھکو مری نگاہ ہی بدنام کر گئی
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaمجھکو مرِی نگاہ ہی بدنام کر گئی
کمبخت اسکے چہرے پہ جا کر ٹہر گئی
صحرا نوردِ عشق کی اٹکھیلیاں نہ پوچھ
اُسکی تو ساری عمر اسی میں گزر گئی
مانا کہ کچھ طو یل تھا یادوں کا سلسلہ
سپنوں کے پنکھ توڑ کر نیندیا کدھر گئی
فیضِ حکا یتِ دلِ صد چا ک دیکھیے
ذکرِ جفائے یار کی قسمت سنور گئی
چاہا کہ دوستوں میں کروں دوست کی تلاش
مایوس ہو کے لو ٹی جدھر بھی نظر گئی
بے وجہ بے سبب تو نہیں قدِ خم مرِا
میں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی
اب کس کا انتظار ہے اے زند گی تجھے
کس کو تلاش کرنے پرانے شہر گئی
نوٹ: ایک مصرع کسی اور شاعر کی غزل سے ماخوز ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






