مجھے اب محبت سے محبت نا رہی
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, HarooNAbdوہ رابطے وہ تعلق وہ چاہت نا رہی
تیری ہجر کی اب ویسی وحشت نا رہی
نکلی جب میں اس کے طلسمی حصار سے
دل کو کسی مسیحائی کی حاجت نا رہی
پھر یوں ہوا کہ کوئی درد آشنا نا رہا
پھر یوں بھی ہوا درد میں شدت نا رہی
وہ بھی مصروف ہو گیا روز مرہ کے کاموں میں
مجھے بھی اس کو یاد کرنے کی فرصت نا رہی
اب تو سوچ بھی نہیں سکتی کسی کو چاھنے کا
کہ مجھے اب محبت سے محبت نا رہی
جب تیری یاد آتی ہے پلکیں بھیگ جاتی ہیں
لیکن آنسو گرانے کی مجھ میں ہمت نا رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






