مجھے ایک بات کہنی ہے
Poet: Shehzad Owaisi By: Shehzad Owaisi, Karachiمجھے ایک بات کہنی ہے
اگر مقدر میں
ہمارا ساتھ لکھا ہے
تو
تمہیں کا ہے کی جلدی ہے
ذرا سا صبر کرلو نا
کیا پتہ اس مقدر پہ
پھر تم ناز کر بیٹھو
وہ منظر سوچو تو
کتنا خوب ہوگا نا
ذرا ایسے بھی سوچو تم
اگر اس کے برعکس ہو
تو
خدارا! جیون اپنا تم
کبھی برباد نا کرنا
مجھے تم یاد مت کرنا
خدارا! صبر کرلو نا
میری بس اتنی خواھش ہے
میری یہ بات رکھلو نا
مجھے یہ بات کہنی تھی
مجھے یہ بات کہنی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






