مجھے بس تجھ سے پیار ہے
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadمیرے دو پل کے ہمسفر مجھے تجھ سے پیار ہے
میری راہوں کو تیرا اتنظار ہے
میرے قدموں کی آہٹوں میں سنو تو اک آواز ہے
مجھے بس تیرا اتنظار ہے
میری نظروں کی کھوجھوں میں
میری پلکوں کے دریچوں میں
تیرے لیئے محبت کا گھر آباد ہے
میرے دو پل کے ھمسفر مجھے بس تجھ سے پیار ہے
میرے وجود کو تیرے وجود کی تلاش ہے
تو کہاں ہے
تو کیا ہے
تو کیساہے
مجھے بس تیرا انتظار ہے
مجھے تجھ سے پیار ہے
میرے جذبوں کو تیرے لمس کی پیاس ہے
میری سوچوں کی حدوں میں
تو آباد ہے
میرے ھمسفر
میرے جانشیں
مرے جانمن
مجھے تجھ سے پیار ہے
بس تیرا انتظار ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







