مجھے تجھ سے محبت کیسی ہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتیرا پیار ، کیسا ہے
تیرا اتنظار ، کیسا ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیرا حسن جمال کیسا ہے
تیرا نام ، کیسا ہے
تیرا پغام ، کیسا ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیرا اقرار کیسا ہے
تیری خاموشی ، کیسی ہے
تیری سرگوشی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تیری دھڑکنوں میں مدہوشی کیسی ہے
تیری آنکھیں ، کیسی ہے
تیری باتیں ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں ادائے کیسی ہے
تیرا غصہ، کیسا ہے
تیری نرمی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں ہمدردی کیسی ہے
تیرا جنون ، کیسا ہے
تیری دیوانگی ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں سادگی کیسی ہے
تیری جفاء ، کیسی ہے
تیری خطاء ، کیسی ہے
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
تجھ میں حیاء کیسی ہے
میری الفت ، کیسی ہے
میری چاہیت ، کیسی ہیں
یہ تو بھی نہیں جانتا کہہ
مجھے تجھ سے محبت کیسی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






