مجھے تم سے اور کچھ نھیں چاھئے
Poet: SABA KOMAL By: SABA KOMAL, KSAمحبت کے بدلے محبت ہی دو
میری زندگی کو مکمل کرو
جو سانسیں بچیں ہیں انہیں تھام لو
میرے جسم پہ اپنا پہرہ رکھو
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
سایہ رکھو میرا آنچل بنو
میری آنکھوں کا کاجل بنو
میری دھڑکنوں کی ترنم بنو
میرے ہر لفظ پہ بھروسہ کرو
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
وفاء کے بدلے وفاء کر چلو
محبت کا ہر حق ادا کر چلو
اپنی ہر دعا میں شامل کرو
میرا ہر قدم پہ سہارا بنو
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
میرا ذکر ہر لمحہ زباں پہ رھے
میرا فکر تیرے دھیان میں رھے
جلو تو میرے سنگ ھوا کیطرح
میرے ہر سفر کا کنارا بنو
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
جب زندگی کی ڈور لگے ٹوٹنے
ہر اک رشتہ لگے چھوٹنے
اپنی بانہوں میں بڑھ کر مجھے تھام لو
گود میں اپنی میرا سر رکھو
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
مجھے تم سے اور کچھ نہیں چاھئیے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






