مجھے تو بتا
Poet: M.R.Khan By: M.R.Khan, Muzaffar garh تجھے پا کے میں آباد ہوا
تجھے پا کے میں برباد ہوا
تو ہے کیا بلامجھے تو بتا
تیرا جھانکناوہ اکھیوں کے تیر تاکنا
ہاۓ !! وہ تیری دل آ ویز ادا
تو ھے کیا بلامجھے تو بتا
تیری حسرتیں تیری خواہشیں تیری چاہتیں
تیرا بانکپن ، چشمء مگن ، شیریں سخن
تو ہے کیا بلامجھے تو بتا
تیراحسن وجمال ہے بھلا دیتا رنج وملال
تیرا قد و قامت خد و خال ہیں با کمال
تو ہے کیا بلامجھے تو بتا
تو زلیخا ھے ؟یا ذلیخا ہی تیری شبیںہ
مثل دنیا رفیع بھی ہے انگشت بدنداں
تو ھے کیا بلامجھے تو بتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







