مجھے تیری قسم میں ہوش میں ہوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاب نہ کہنا کہ بے خبر ہوں میں
اب نہ کہنا کہ مجھ میں درد نہیں
اب نہ کہنا کہ بے نظر ہوں میں
آنکھ کھولوں تو یہ دنیا دیکھوں
تیری دنیا سے بے خودی اچھی
ہوش میں آؤں بھی تو کیا دیکھوں
ورکشاپوں میں کام کرتے ہوئے
نچلے طبقے کے بےقدر بچے
کیا لکھوں کہ دل پگھلتا ہے
انکو دیکھوں تو خون جلتا ہے
وقت کی بے آواز چکی میں
پسی ہوئی ہیں جن کی آرزوئیں
انکے دل بھی تو دھڑکتے ہونگے
یہ گرد آلود بے وقعت چہرے
کسی کی آنکھ کے تارے ہونگے
یہ داغ داغ جسم اور دھواں دھواں آنکھیں
انکو بھی کوئی چومتا ہو گا
انکے اندر بھی تو معصومیت ہے
ان سے بھی کوئی کھیلتا ہو گا
یہ ناتواں بازو یہ ننھے ننھے ہاتھ
کتابیں انکا مقدر نہ ہوئیں
صبح صادق کی نکلتی کرنیں
ان غریبوں کی تو سحر نہ ہوئیں
خوشی کی ایک ساعت کی خاطر
انکی صدیاں نثار ہوتی ہیں
انکی معصوم بے نوا سوچیں
راستوں کا غبار ہوتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔ انکو دیکھوں تو خون جلتا ہے
کیا بتاؤں کہ دل پگھلتا ہے
کیا یہ انسان وہ انسان نہیں
جسکو سجدہ کیا فرشتوں نے
پھر یہ اس لوح میں ترمیم کیسی
پھر یہ طبقات کی تقسیم کیسی
ایک وہ ہیں کہ اک اشارے پر
ساری خوشیاں خرید لاتے ہیں
ایک یہ ہیں چند کھلونوں کو
عمر بھر دیکھ بھی نہ پاتے ہیں
ہوش میں آؤں بھی تو کیا دیکھوں
تیری دنیا سے بے خودی اچھی
سب کی تقدیر کا کاتب تو ہے
سب کا معبود تو ہے رب تو ہے
تو پھر یہ لوح میں ترمیم کیسی
پھر یہ طبقات کی تقسیم کیسی
کیسی دنیا ہے یہ تیری دنیا
ابھی تک راہ فراموش میں ہوں
یہ نہ کہنا کہ بے نظر ہوں میں
مجھے تیری قسم میں ہوش میں ہوں
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں






