مجھے جانا بھلا دو نا
Poet: Sheikh Huma Ali By: Sheikh Huma Ali, Karachiمیرا ایمان ہے جانا
کہ جب تم اپنی اک دنیا بسا لو گے
تم اپنے سبھی سپنوں کی
حسیں تعبیر پا لو گے
جسے چاہتے ہو تم ہر پل
جب اس سجنی کے سنگ اپنی
حسیں دنیا بسا لو گے
جو تم نے رب سے مانگا ہے
وہ سب مل جائے گا تم کو
تیری دنیا پہ اے جانا
میرا سایا نہیں ہوگا
مگر مجھ کو یقیں یہ ہے
کہ جب بھی دیکھو گے تنہا
مجھے خوش میری مستی میں
میرا ایمان ہے جانا
تمہیں محسوس یہ ہوگا
میں تم سے پیار کرتی تھی
میں تم سے پیار کرتی ہوں
تبھی اب بھی اکیلی ہوں
تو شاید ایک لمحے کیلیے
تم بھی مجھے سوچو
میرے نزدیک آکر تم
بڑے ہی مان سے بولو
مجھے جانا بھلا دو نا
تم اپنا گھر بسالو نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






