مجھے دیکھا
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیپیاسی نگاہوں سے جب انہیں میں نے دیکھا
دل کی بیقراری سے جب انہیں اپنی محبت کہا
دیکھنے والوں نے ہمیں خوب جی بھر کے دیکھا
اپنے ہاتھوں سے ان کی زلفیں سنوارتے دیکھا
چاہت کے رنگ سنگ اورقوس و قزاح میں دیکھا
اس کی نیلی چمکتی آنکھوں نے چلمن سے مجھے دیکھا
پتلی انگلیاں،لمبی آنکھیں، شادابی چہرہ ہے اس کا
قدم نازک، چال نزاکت اور مسکراہٹ غضب کی
اے ریاض! وہ اس قدر حسین ہے جب بھی دیکھا
دیوانہ، پروانہ ،مستانہ ، بیگانہ سب نے مجھے دیکھا
(شاعری میں ریاض لکھتا ہوں ۔۔۔جاوید صدیقی )
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






