مجھے شاید محبت ھو گئی تھی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاسکی یادوں میں کھویا رہتا تھا
اسکی باتوں میں گھرا رہتا تھا
ہر طرف پھول نظر آتے تھے
ہر طرف رنگ بکھر جاتے تھے
اسکے لہجے میں عجب جادو تھا
اسکے پیکر میں عجب خوشبو تھی
چار سو کلیاں مسکراتی تھیں
تتلیاں گل کو گدگداتی تھیں
رقص کرتی تھیں ہوائیں اکثر
جھوم جاتی تھیں فضائیں اکثر
لکھتے لکھتے ٹھہر سا جاتا تھا
ٹھہرے ٹھہرے بکھر سا جاتا تھا
چاند اسکی جبین لگتا تھا
سارا عالم حسین لگتا تھا
ہر گھڑی اک شرارت ہو گئی تھی
تھوڑی تھوڑی سی وحشت ہو گئی تھی
دل کو خود سے بغاوت ہو گئی تھی
شعر کہنے کی عادت ہو گئی تھی
زندگی خوبصورت ہو گئی تھی
مجھے شاید محبت ہو گئی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






