مجھے شاید محبت ھو گئی تھی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاسکی یادوں میں کھویا رہتا تھا
اسکی باتوں میں گھرا رہتا تھا
ہر طرف پھول نظر آتے تھے
ہر طرف رنگ بکھر جاتے تھے
اسکے لہجے میں عجب جادو تھا
اسکے پیکر میں عجب خوشبو تھی
چار سو کلیاں مسکراتی تھیں
تتلیاں دل کو گدگداتی تھیں
رقص کرتی تھیں ہوائیں اکثر
جھوم اٹھتی تھیں فضائیں اکثر
لکھتے لکھتے ٹھہر سا جاتا تھا
ٹھہرے ٹھہرے بکھر سا جاتا تھا
چاند اسکی جبین لگتا تھا
سارا عالم حسین لگتا تھا
ہر گھڑی اک شرارت ہو گئی تھی
تھوزی تھوڑی سی وحشت ہو گئی تھی
دل کو خود سے بغاوت ہو گئی تھی
شعر کہنے کی عادت ہو گئی تھی
زندگی خوبصورت ہو گئی تھی
مجھے شاید محبت ہو گئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






