مجھے شبنم کی نیت پہ کوئی شک تو نہیں لیکن
Poet: سید عبدالستار مفتی By: سید عبدالستار مفتی, Samundri Faisalabadسحر نے ظلمتِ شب کی قسم کھائی تو کیا ہوگا
یہ ناگن خونِ انساں پی کے لہرائی تو کیا ہوگا
دباؤ ذہن پر دیکر ذرا سوچو شفق پارو
خِزاں کے روپ میں ڈھل کر بہار آئی تو کیا ہوگا
تصور شورِ محشر کا تری لَے سے نمایاں ہے
نہ جاگی خفتہ ارمانوں کی شہنائی تو کیا ہوگا
دکھوں کی یورشیں خیزاں ، حوادث کی بپا آندھی
ہؤا جو یوں علاجِ زخم ِ تنہائی تو کیا ہوگا
کسی ے خوار کے احساس کی شیشہ نوازی بھی
مزاجِ گردشِ دوراں سے ٹکرائی تو کیا ہوگا
ابھی تو اور بھی ہم کو اجالوں کی ضرورت ہے
گنوادی دیدہ ء عرفاں نے بینائی تو کیا ہوگا
اِرادے بھی چٹانوں کی طرح مضبوط ہیں بے شک
کنارے پہ جو موجِ غم ابھر آئی تو کیا ہوگا
مجھے شبنم کی نیت پہ کوئی شک تو نہیں لیکن
اُڑا کر لے گئی پھولوں کی رعنائی تو کیا ہوگا
شگوفے میرے نغموں کا بڑا پرچار کرتے ہیں
صبا نے بھی اگر میری غزل گائی تو کیا ہوگا
خدانخواستہ مفتی بصیرت کی نگاہوں نے
خرد کو عشق کی پوشاک پہنائی تو کیا ہوگا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






