مجھے مفہوم وفا مل گیا
Poet: UA By: UA, Lahoreمیری دنیا میری جنت بسی تیری نگاہوں میں
میری نظروں کا نظارہ بسا تیری نگاہوں میں
بھٹکتا پھر رہا تھا میرا دل انجان رستوں پہ
نشان منزل کا میں نے پالیا تیری نگاہوں میں
میں دل کی وادیوں میں خود کو ڈھونڈتا رہا
مجھے میرا سراپا مل گیا تیری نگاہوں میں
گردش دوراں سے مرجھایا ہوا دل
کھل اٹھا ڈوبا جو تیری نگاہوں میں
محبت کیا ہے اب سے پہلے معلوم نہیں تھا
مجھے مفہوم وفا مل گیا تیری نگاہوں میں
تیری آنکھوں کے سمندر میں دل ڈوبتا گیا
محبت کا سمندر موجزن تیری نگاہوں میں
کسی بزم میں یہ دل نہیں لگتا میں کیا کروں
بنا ہے میرے دل کا آشیاں تیری نگاہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






