مجھے موت دے، نہ حیات دے
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratمجھے موت دے، نہ حیات دے
مرے حوصلے کو ثبات دے
مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں
مجھے خواہشوں سے نجات دے
ترے پاس آیا ہوں دور سے
مجھے دیکھنے دے قریب سے
مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر
مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے
مرے دل میں یار بسا ہوا
نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا
نہ مٹے نگاہ کی تشنگی
اسے ایک موجِ فرات دے
کبھی دامِ غم سے نکل سکوں
کہ دوامِ عشق میں ڈھل سکوں
کبھی لڑکھڑا کے سنبھل سکوں
ذرا میرے ہاتھ میں ہات دے
کوئی شام، شامِ فراق سی
کوئی صبح، صبحِ وصال سی
مرے گمشدہ، مرے پاس آ
مجھے روز و شب سے نجات دے
کہیں آنسوؤں سے جلا ہوا
کہیں سسکیوں سے بجھا ہوا
ہوں چراغِ شام بنا ہوا
مجھے ایک چاندنی رات دے
ترے سامنے تجھے مل سکوں
کبھی خود کو خود سے ملا سکوں
کوئی ایسا لمحہ نصیب کر
کوئی ایسی وصل کی رات دے
مری آرزوؤں کا پاس رکھ
مجھے اپنے غم میں اداس رکھ
مجھے زینؔ تیری طلب نہیں
مجھے میرا حصہء ذات دے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






