مجھے میلوں میلوں ڈھونڈوں گے
Poet: Humaira Akram By: Humaira Akram, Lahoreیوں ھاتھ چھڑا کے جاؤگے
تو سن لو بہت پچھتاؤ گے
ھم خود ھی کہی کھو جائییں گے
تم میلوں میلوں ڈھونڈوں گے
ھم سا نہ تمھیں کوئی مل پائے گا
یہ تم کو سمجھ کبھی آئے گے
جس عکس کو تم ہییرا سمجھے ہو
اس میں ر قص اندھیرہ کرتا ہے
جاناہے تو جا ؤ تم
نہ مجبوری کا بہا نا بناؤ تم
مجبور دل جب ہوتا ہے
تو سچ میں دل بہت روتا ہے
دل بھر جائے جب جس کا
تو پھر کس نے کس کو روکا ہے
نبھانا ساتھ ہو جب دل نے
بھلا دنیا کو کس نے دیکھا ہے
یوں ھاتھ چھڑا کے جاؤگے
تو سن لو بہت پچھتاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






