مجھے وفاؤں نے یہ گھر دیا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکمجھے وفاؤں نے یہ گھر دیا ہے
"مری آنکھوں میں پانی بھر دیا ہے"
محبت کی حسرت ہی چھین لی ہے
یہ کیسا مجھ کو مال و زر دیا ہے
کتنا اونچا ہو گیا ہے قد مرا اب
میں نے سولی پہ اپنا سر دیا ہے
دیکھو اردو زباں نے جگ میں میرا
نام پہلے سے بھی اونچا کر دیا ہے
چلو اچھا ہوا جو تم نے بھی چھوڑا
انجام الفت کا مجھے بہتر دیا ہے
وشمہ خوش ہوں میں اب اپنے خدا سے
جس نے دنیا میں اپنا ڈر دیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






